Monday, 10 October 2022

ہر سانس جو آتی ہے ستمگار قفس میں

 ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں

کھینچے ہے مِری جان سرِ دار قفس میں

دیکھے بھی تو کیا اپنی مسیحائی کا انجام

جھانکے بھی تو کیا نرگسِ بیمار قفس میں

اطراف ہیں طاقت کے تکبر کی سلاخیں

ظالم ہے خود اپنا ہی گرفتار قفس میں

پر کاٹنے والے کو یہ معلوم نہیں ہے

رکتے ہیں کہیں عزم کے پر دارِ قفس میں

یہ پھول ہیں یہ سبزہ ہے یہ باد صبا ہے

ارمان سنجو لائے ہیں گھر بار قفس میں

آزادی بھی حاضر ہے تو پرواز بھی موجود

خوابوں نے لگا رکھا ہے دربار قفس میں

صیاد ہمیں تیری خدائی بھی تھی تسلیم

ہوتا جو تصور بھی گرفتار قفس میں


ارشد عبدالحمید

No comments:

Post a Comment