Monday, 10 October 2022

دیکھ اے اہل وفا تجھ سے یہ کیا چاہتی ہے

 دیکھ اے اہلِ وفا تجھ سے یہ کیا چاہتی ہے

بے سہاروں کی صدا دستِ دعا چاہتی ہے

اب کے اک شب کی بیاہی کا سہاگ اجڑا ہے

اور، دنیا ہے کہ؛ دلہن سے حیا چاہتی ہے

قتل ہوتا ہے ہے سرِ راہ تو ہونے بھی دو

"روز اک تازہ خبر خلقِ خدا چاہتی ہے"

کیوں کوئی ایسی خدائی کو کرے دل سے قبول

جو سدا شکوۂ اربابِ وفا چاہتی ہے

گھر میں آنے سے اسے کون بھلا روکے گا

در مقفّل ہے تو دیوار کھُلا چاہتی ہے

اتنا خود سر بھی نہیں ہوں کہ جلا دوں گھر کو

میں وہی چاہوں گا جو مجھ سے ہوا چاہتی ہے

بیچ آیا ہوں رضا اپنی میں تلوار کے ساتھ

اور رگِ جاں ہے کہ یہ اپنی انا چاہتی ہے


حسن امام رضوی

No comments:

Post a Comment