جسے مناتے ہوئے کھینچ تان چلتی ہے
اسی کی سانس مِرے درمیان چلتی ہے
کوئی بھی جیت نہیں سکتا اس سے باتوں میں
ہمارے یار کی اتنی زبان چلتی ہے
ارے یہ خود سے کہانی نہ گھڑ، نہیں چلنی
ہو سچ پہ مبنی تو پھر داستان چلتی ہے
نہیں ہو پیار اگر دل میں تو دھڑکتا نہیں
دکاندار کے سر پر دکان چلتی ہے
ہمارے تیر نشانے پہ جا کے لگتے ہیں
کسی دعا سے ہماری کمان چلتی ہے
اسامہ سرفراز
No comments:
Post a Comment