مجھے چڑیا گھر نہیں جانا
وہاں میرے ہی ارتقا کی معصوم یاد گاریں ہیں
چھوٹے چھوٹے بچے نیلی نیکریں پہنے
مائیں فیڈر اٹھائے
باپ قطار میں ٹکٹ لینے کے لیے
سب یہی سمجھ رہے ہیں
وہ کچھ عیجب جانور دیکھنے جا رہے ہیں
میک اپ کے پیچھے
کوئی دل میں کنگ کوبرا کا زہر لیے
کوئی کمزور کو پائیتھون کی طرح جکڑے
کوئی ہرن کی طرح پھٹی پھٹی نگاہوں سے
بے بسی میں
کوئی ہاتھی کی طرح اپنی جاگیر کے نشے میں مست
کوئی ڈائنوسار کی طرح ہیڈ کوارٹر میں
کوئی بندر کی طرح سیکرٹریٹ میں
کوئی الووں کی طرح پارلینمنٹ میں ہے
جب سب جانوروں نے
کسی ویران حویلی سے
کسی پانچ سالہ بچی کے ریپ کی چیخ سنی
نابالغ لہو کی لکیر دیکھی
سب نے ہاتھ اٹھا کر کہا
اے خدائے لم یزل
شکر ہے ہم ارتقا سے بچ گئے
میں نے چڑیا گھر نہیں جانا
وہاں تو
اجمل صدیقی
No comments:
Post a Comment