Wednesday, 5 January 2022

مجھے چڑیا گھر نہیں جانا

 مجھے چڑیا گھر نہیں جانا


وہاں میرے ہی ارتقا کی معصوم یاد گاریں ہیں 

چھوٹے چھوٹے بچے نیلی نیکریں پہنے

مائیں فیڈر اٹھائے

باپ قطار میں ٹکٹ لینے کے لیے

سب یہی سمجھ رہے ہیں

وہ کچھ عیجب جانور دیکھنے جا رہے ہیں

میک اپ کے پیچھے

کوئی دل میں کنگ کوبرا کا زہر لیے

کوئی کمزور کو پائیتھون کی طرح جکڑے

کوئی ہرن کی طرح پھٹی پھٹی نگاہوں سے

بے بسی میں

کوئی ہاتھی کی طرح اپنی جاگیر کے نشے میں مست

کوئی ڈائنوسار کی طرح ہیڈ کوارٹر میں

کوئی بندر کی طرح سیکرٹریٹ میں

کوئی الووں کی طرح پارلینمنٹ میں ہے

جب سب جانوروں نے

کسی ویران حویلی سے

کسی پانچ سالہ بچی کے ریپ کی چیخ سنی

نابالغ لہو کی لکیر دیکھی

سب نے ہاتھ اٹھا کر کہا

اے خدائے لم یزل

شکر ہے ہم ارتقا سے بچ گئے

میں نے چڑیا گھر نہیں جانا

وہاں تو


اجمل صدیقی

No comments:

Post a Comment