Wednesday, 14 April 2021

کہیں یقیں سے نہ ہو جائیں ہم گماں کی طرح

 کہیں یقیں سے نہ ہو جائیں ہم گماں کی طرح

سنبھال کر ہمیں رکھیے متاعِ جاں کی طرح

جسے صدف کی طرح آنکھ میں چھپایا تھا

وہ کھو نہ جائے کہیں اشکِ رائیگاں کی طرح

ہمیں بھی خوفِ تلاطم نے گھیر رکھا تھا

کھلا نہیں تھا ابھی وہ بھی بادباں کی طرح

نصابِ عشق میں سارے سوال مشکل تھے

محبتیں بھی تھیں درپیش امتحاں کی طرح

کھلے جو لب تو انہی آئینوں میں حیرت تھی

جو دیکھتے تھے ہمیں عکس بے زباں کی طرح

جہاں ملی تھیں کبھی خوشبوئیں ہواؤں سے

مہک رہا تھا وہ جنگل بھی گلستاں کی طرح

ہنر وری ہے ہماری کہ اپنے خوابوں سے

قفس بھی ہم نے سجایا تھا آشیاں کی طرح


فرح اقبال

No comments:

Post a Comment