دل کو درپن بنا کے دیکھ لیا
‘جھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا’
فیصلہ بھی کوئی سنا دیجے
آپ نے آزما کے دیکھ لیا
دل کی بے تابیاں نہیں جاتیں
زخمِ الفت بھی کھا کے دیکھ لیا
دوستی سے نہیں اسے نسبت
ہاتھ ہم نے بڑھا کے دیکھ لیا
راز چھپتا نہیں کسی صورت
لاکھ ہم نے چھپا کے دیکھ لیا
وہ بہت سنگدل ہے ظالم ہے
جاں سے بھی ہم نے جا کے دیکھ لیا
کھل اٹھے، جب کبھی فصیح اس نے
اک ذرا مسکرا کے دیکھ لیا
شاہین فصیح ربانی
No comments:
Post a Comment