آگ پوری کہاں بجھی ہے ابھی
دیدۂ تر میں تشنگی ہے ابھی
دوستوں سے چکا رہا ہوں حساب
دشمنوں سے کہاں ٹھنی ہے ابھی
دوست کہہ کر مجھے نہ دے گالی
کاٹ دے یہ بھی خود پرستی میں
اور تھوڑی سی زندگی ہے ابھی
جانے کیوں کند ہو گیا نشتر
زخم کی دھار تو وہی ہے ابھی
مدحت الاختر
No comments:
Post a Comment