ستارے توڑ کے دیتا ہے آفتاب مجھے
دکھا رہا ہے وہ چہرہ عجیب خواب مجھے
میں ایک قطرۂ شبنم ہوں دامنِ گل پر
اٹھاۓ سیکڑوں نیزوں سے آفتاب مجھے
میں اپنے آپ میں پہلے تو یوں اسیر نہ تھا
وہ ابر جسم کو شاداب کر گیا، ورنہ
جھلس رہا تھا فضاؤں کا التہاب مجھے
میں اپنی خاک کے ذروں میں جا ملا مدحت
بلا رہا تھا بلندی سے ماہتاب مجھے
مدحت الاختر
No comments:
Post a Comment