Friday, 9 December 2016

ستارے توڑ کے دیتا ہے آفتاب مجھے

ستارے توڑ کے دیتا ہے آفتاب مجھے
دکھا رہا ہے وہ چہرہ عجیب خواب مجھے
میں ایک قطرۂ شبنم ہوں دامنِ گل پر
اٹھاۓ سیکڑوں نیزوں سے آفتاب مجھے
میں اپنے آپ میں پہلے تو یوں اسیر نہ تھا
ملا ہے کب کے گناہوں کا یہ عذاب مجھے
وہ ابر جسم کو شاداب کر گیا، ورنہ
جھلس رہا تھا فضاؤں کا التہاب مجھے
میں اپنی خاک کے ذروں میں جا ملا مدحت
بلا رہا تھا بلندی سے ماہتاب مجھے

مدحت الاختر

No comments:

Post a Comment