چراغ سرد ہوئے، لفظ بے صدا ہُوا ہے
یہی بہت ہے کہ محشر نہیں بپا ہوا ہے
وہ جس کا ہونا کسی طور طے نہ تھا، ہوا ہے
ہر ایک واقعہ امکاں سے ماورأ ہوا ہے
مگر یہ رات، یہ دن جوں کے توں ہیں مدت سے
بس اک سخن جسے دہرائے جا رہا ہے یہ دل
بس اک نگاہ،۔ جسے سلسلہ کِیا ہوا ہے
یہ آئینہ ہے، سو لَو دے رہا ہے تیرے بغیر
پر اشتباہ سا کیونکر مجھے مِرا ہوا ہے
کفِ بریدہ سے تقویم گِر پڑی ہے مِری
یہ کس گھڑی میں ستارہ گریز پا ہوا ہے
سقوطِ خواب سے اِن ساکنانِ خواب کو کیا
جہاں تو چشمِ تماشا سے گونجتا ہوا ہے
ضیا المصطفیٰ ترک
No comments:
Post a Comment