Thursday, 8 December 2016

وہی ہوں میں وہی بازار کا تماشا ہے

وہی ہوں میں وہی بازار کا تماشا ہے
مِرا تماشا نہیں،۔ یار کا تماشا ہے
محال ہے کہ مجھے اذنِ باریابی ملے
مِرے نصیب میں دیوار کا تماشا ہے
مجھے بھی پہلے پہل اپنا ہی گماں ہوا تھا
مگر یہ آئینۂ زنگار کا تماشا ہے
یہ عشق زلفِ گرہ گِیر سے عبارت ہے
یہ خواب چشمِ طرحدار کا تماشا ہے
یہ جو بھی کچھ ہے مِرے ہونے پر نہیں موقوف
مِرے نہ ہونے سے انکار کا تماشا ہے
سوائے میرے سبھی کچھ بدلتا رہتا ہے
مِرے لیے تو یہ بے کار کا تماشا ہے
مجال ہے جو کوئی بھی پلک جھپک جائے
کسی بہت بڑے فنکار کا تماشا ہے

ضیا المصطفیٰ ترک

No comments:

Post a Comment