نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں
تمام آیتیں امکان میں پڑی ہوئی تھیں
کِواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا
بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تِھیں
وہاں شکستہ قدمچوں پہ آگ روشن تھی
ہم اپنے آپ سے بھی ہم سخن نہیں ہوۓ تھے
کہ ساری مشکِلیں آسان میں پڑی ہوئی تھیں
پسِ چراغ میں جو سمتیں ڈھونڈتا رہا تُرکؔ
وہ ایک لفظ کے دوران میں پڑی ہوئی تھیں
ضیا المصطفیٰ ترک
No comments:
Post a Comment