Thursday, 8 December 2016

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں
تمام آیتیں امکان میں پڑی ہوئی تھیں
کِواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا
بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تِھیں
وہاں شکستہ قدمچوں پہ آگ روشن تھی
وہی روایتیں انجان میں پڑی ہوئی تھیں
ہم اپنے آپ سے بھی ہم سخن نہیں ہوۓ تھے
کہ ساری مشکِلیں آسان میں پڑی ہوئی تھیں
پسِ چراغ میں جو سمتیں ڈھونڈتا رہا تُرکؔ 
وہ ایک لفظ کے دوران میں پڑی ہوئی تھیں

ضیا المصطفیٰ ترک

No comments:

Post a Comment