Friday, 9 December 2016

خوف تخریب و شر مجھے بھی ہے

خوفِ تخریب و شر مجھے بھی ہے
اپنے ہونے کا ڈر مجھے بھی ہے
تم بھی جاگے ہوۓ ہو صدیوں کے
جاگنا رات بھر مجھے بھی ہے
تم بھی مصروف ہو خدائی میں
اور کارِ دِگر مجھے بھی ہے
یہ الگ بات، میں نہ منہ کھولوں
تم کہاں ہو، خبر مجھے بھی ہے
فائدہ کیا ہے اس کے ہونے کا
سوچنا ہی اگر مجھے بھی ہے
موت سے ساز باز کر لے گی
زندگی سے خطر مجھے بھی ہے
مجھ پہ تحقیق دیکھیۓ کب ہو
سوچ کا کینسر مجھے بھی ہے
اڑنا آتا نہیں،۔ مگر سیفیؔ
خواہشِ بال و پر مجھے بھی ہے

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment