Saturday, 17 July 2021

کسی رات کی تیرگی سے نکالا ہوا راستہ ہوں سیاہ حاشیہ ہوں

 حاشیہ


کسی رات کی تیرگی سے نکالا ہوا راستہ ہوں

سیاہ حاشیہ ہوں

سیاہی کہ جو بیکراں کائناتوں کا ملبوس پہنے ستارے جنے گی

سیاہی کہ جس کے سیاہ ریشمی پلووں پر 

کرن اور گوٹی کا بخیہ لگا کر سیا ہے

مہارت سے صبح کا ستارہ کسی نے

سیاہ حاشیہ ہوں جو بپھرے ہوئے

پانیوں کو جدائی کے ساحل میں جب روکتا ہے

تو کتنے تھپیڑوں کو سہتا ہے خود پر

تمہیں کیا خبر؟

 کیسے گرتی لڑھکتی ہوئی زندگی کو اُٹھاتی رہی ہوں

کہاں کس طرح خود سے خود کو بچاتی رہی ہوں

تمہیں کیا خبر کہ میں کیا سوچتی ہوں

مجھے تم نے اک بار جنما تھا اور 

اب مکاں در مکاں میں ہزاروں برس سے تمہیں جن رہی ہوں

کبھی ایسے لگتا ہے میں حاشیہ ہوں

مِرا کوئی مطلب نہ معنی

نہ صورت کی لیلا

کبھی ایسے لگتا ہے جیسے کہ میں اک مسلسل بہاؤ میں ہوں 

اور زمانوں کی تحدید بندی پہ مامور ہوں

اک کنارے پہ رہنے کو مجبور ہوں


شازیہ اکبر

No comments:

Post a Comment