سیاہ رات میں تارے سوال کرتے ہیں
بچھڑ کے تجھ سے یہ سارے سوال کرتے ہیں
اجل کے بعد کیا دو پَل سکوں میسر ہے؟
کہ رزمِ زیست کے مارے سوال کرتے ہیں
وہ تیرا ہجر بھی ملنے پہ مطمئن کیوں ہے؟
جو تجھ کو جیت کے ہارے، سوال کرتے ہیں
عجیب لوگ ہیں طعنہ کَسے ہیں ملنے پر
کبھی فراق کے بارے سوال کرتے ہیں
اویس کس نے یوں چھلنی کیا جگر تیرا
دریدہ جسم کے پارے سوال کرتے ہیں
اویس علی
No comments:
Post a Comment