Thursday, 8 July 2021

ایک زنجیر رہ گئی باقی تیری تصویر رہ گئی باقی

 تیری تصویر


اپنے کمرے میں چار سُو پھیلی

تیری خوشبو سے جاں چھُڑا لی تھی

تیرے نامے جلا چکا تھا میں

تیرے تحفے، کتاب، گُلدستے

ایک ایک کر کے سب گُما ڈالے

تیری چُوڑی سنبھال رکھی تھی

ایک لاکر میں ڈال رکھی تھی

آج اُس کو بھی پھینک آیا تھا

ایک نادیدہ قیدِ اُلفت سے

خود کو آزاد کر رہا تھا میں

پر نہ قسمت نے یاوری ہی کی

ایک زنجیر رہ گئی باقی

تیری تصویر رہ گئی باقی


قمر آسی

No comments:

Post a Comment