Wednesday, 7 July 2021

میں وہ کردار ہوں کہانی میں

 میں وہ کردار ہوں کہانی میں

جو کہ بوڑھا ہُوا جوانی میں

ہم جو دونوں کھڑے ہیں دریا پر

آگ کیوں لگ رہی ہے پانی میں؟

سو مجھے ہجر دے دیا اُس نے

میں نے مانگا تھا کچھ نشانی میں

کیوں دل آیا کنیز پر شہ کا؟

کیا برائی تھی یار! رانی میں؟

نیکیاں تو نہیں تھیں میرے پاس

سو بہائے گناہ پانی میں


حذیفہ ہارون

No comments:

Post a Comment