میں وہ کردار ہوں کہانی میں
جو کہ بوڑھا ہُوا جوانی میں
ہم جو دونوں کھڑے ہیں دریا پر
آگ کیوں لگ رہی ہے پانی میں؟
سو مجھے ہجر دے دیا اُس نے
میں نے مانگا تھا کچھ نشانی میں
کیوں دل آیا کنیز پر شہ کا؟
کیا برائی تھی یار! رانی میں؟
نیکیاں تو نہیں تھیں میرے پاس
سو بہائے گناہ پانی میں
حذیفہ ہارون
No comments:
Post a Comment