زندگی چل رہی ہے
میرے بستر پر نیند کی کالی مٹی کے
چند ذرات باقی بچے ہیں
باقی کی ساری مٹی امن کی خاطر جنگ میں
مرنے والے سپاہیوں کی قبروں پر ڈال آیا ہوں
تاکہ وہ ایک گہری نیند لیں
اور برسوں کی تھکن اتاریں
میرا کیا ہے
نظموں کا تکیہ
شہزادی کے تڑخے ہوئے خواب
کھڑکی سے باہر سڑک پر پڑے تھے
ایک گل فروش وہ سارے خواب
اکٹھے کر کے لے جا رہا ہے
کھڑکی کے باہر اب چند پھول پڑے ہیں
ٹوٹے خوابوں کی بوسیدگی
گل کی مہک میں بدل گئی ہے
سہاگ کی ارتھی اٹھی تو
چند نام نہاد رسموں کے پتھر
نئی نویلی دلہن کی
رنگ برنگی چوڑیاں توڑ گئے
جیون سے رنگ رخصت ہوئے
امن کا عالمی نشان بنی ناری اپنی بیٹی کو
دھنک کے رنگوں سے متعارف کروا رہی ہے
ہولی کے رنگوں نے
دیوالی کے پٹاخوں کی کالک چھپا لی ہے
ایک شاعر جس نے تمام عمر
وصل کی لذت محسوس نہیں کی
لیکن اپنی نظموں میں پیار محبت
اور ملن کے دیپ جلاتا رہا
فرشتے نے موت کی شمع آگے رکھی
شاعر کا دیوان بِکا
تو کفن ملا
آخری نظم ادھوری رہ گئی لیکن
زندگی کا رتھ چلتا رہا
اویس علی
No comments:
Post a Comment