Tuesday, 9 November 2021

زندگی چل رہی ہے

 زندگی چل رہی ہے


میرے بستر پر نیند کی کالی مٹی کے 

چند ذرات باقی بچے ہیں

باقی کی ساری مٹی امن کی خاطر جنگ میں

مرنے والے سپاہیوں کی قبروں پر ڈال آیا ہوں

تاکہ وہ ایک گہری نیند لیں 

اور برسوں کی تھکن اتاریں

میرا کیا ہے

نظموں کا تکیہ

شہزادی کے تڑخے ہوئے خواب 

کھڑکی سے باہر سڑک پر پڑے تھے

ایک گل فروش وہ سارے خواب 

اکٹھے کر کے لے جا رہا ہے

کھڑکی کے باہر اب چند پھول پڑے ہیں

ٹوٹے خوابوں کی بوسیدگی

گل کی مہک میں بدل گئی ہے

سہاگ کی ارتھی اٹھی تو 

چند نام نہاد رسموں کے پتھر

نئی نویلی دلہن کی 

رنگ برنگی چوڑیاں توڑ گئے

جیون سے رنگ رخصت ہوئے

امن کا عالمی نشان بنی ناری اپنی بیٹی کو 

دھنک کے رنگوں سے متعارف کروا رہی ہے

ہولی کے رنگوں نے 

دیوالی کے پٹاخوں کی کالک چھپا لی ہے

ایک شاعر جس نے تمام عمر 

وصل کی لذت محسوس نہیں کی

لیکن اپنی نظموں میں پیار محبت 

اور ملن کے دیپ جلاتا رہا

فرشتے نے موت کی شمع آگے رکھی

شاعر کا دیوان بِکا

تو کفن ملا

آخری نظم ادھوری رہ گئی لیکن

زندگی کا رتھ چلتا رہا


اویس علی

No comments:

Post a Comment