دل میں جو کچھ ہو، کہو کھل کر، پریشانی نہیں
"ہم فقیروں کے یہاں آدابِ سلطانی نہیں"
تن کے کپڑوں سے چھپے ہے من کی عریانی نہیں
پاک ملبوسات، لیکن پاکدامانی نہیں
عفتِ مریم کی کس کوچے میں ارزانی نہیں
ہاں مگر ظلِ الٰہی کو پشیمانی نہیں
عفتیں لوٹو، زباں کاٹو، جلا دو رات میں
اے امیر شہر! اچھی اتنی من مانی نہیں
بے لباسی بنتِ حوا کو بھلی لگنے لگی
اس سے بڑھ کر اور کوئی فتنہ سامانی نہیں
پھول کچلے جار ہے ہیں باغباں پیروں تلے
کیوں تِرے جذبات کے دریا میں طغیانی نہیں
اے پرندو کس کے بسنے سے اجڑتے ہیں دیار
جنگلوں میں بھی ہمارے گھر سی ویرانی نہیں
عشق کو مہمیز دیتی ہے ستم پرور فضا
شکر ہے دل کی نگاہوں پر نگہبانی نہیں
راستے دشوار، منزل دور، زخمی بال و پر
ہمسفر تم ہو تو پھر کوئی پریشانی نہیں
ہو گئے خود سر عقابوں کی تن آسانی سے زاغ
ہاں عقابوں کے مقدر میں تن آسانی نہیں
جھوٹ پر اب تو ندامت بھی نہیں ہوتی اسے
شرم ہو بزمی کہاں جب آنکھ میں پانی نہیں
سرفراز بزمی
No comments:
Post a Comment