کہنے کو اپنے راہ سے غافل کوئی نہیں
کیا کیجئے کہ راہ میں منزل کوئی نہیں
لاکھوں حسین، سینکڑوں دلدادۂ وصال
جس دل سے دل کو راہ ہو وہ دل کوئی نہیں
ایمان میرا نام ہے، مسجد میں دفن ہوں
میں قتل ہو چکا ہوں، میرا قاتل کوئی نہیں
کوئی جواب دعوائے ابلیس بھی تو ہو
کہتا ہے؛ میرا مدِ مقابل کوئی نہیں
زر مانگتے ہیں، شہر میں گھر مانگتے ہیں لوگ
لیکن کہیں بھی خیر کا سائل کوئی نہیں
شاید کہ صرف میں ہی غلط ہوں جہاں میں
سارے کے سارے حق پہ ہیں، باطل کوئی نہیں
اس بحرِ خلفشار میں لاکھوں بھنور تو ہیں
منزل نشان نہیں کوئی، ساحل کوئی نہیں
زیدی مجھے دکھا یہ یہ جھوٹے جواہرات
ان پتھروں میں جوہرِ قابل کوئی نہیں
قمر زیدی
No comments:
Post a Comment