گلہ نہیں ہے
اگر وہ خوش پوش میری خواہش میں اک زرا مبتلا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
اگر دعاؤں کی دستکوں سے بھی بابِ نعمت کھلا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
اگر بدن پر مہیب زخموں کا منہ کھلا ہے سِلا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
ہمارے ہاتھوں کی خط کشیدہ خراشوں میں گر سکوں کا اک زاویہ نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
اگر ہمارے لہو سے کوئی چراغِ راحت جلا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
اگرچہ ہم کو ریاضتوں کا ثمر ابھی تک ملا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
وہ مہرباں گر الم رسیدہ کو اک نظر دیکھتا نہیں ہے
خراب حالوں کی ابتری کا خیال اس پر کھلا نہیں ہے
کہ ہم نے دامن کے خالی پن کو کئی دلاسے دئیے ہوئے ہیں
کہ صبر دھاگوں سے ہم نے شکوؤں کے لب نفاست سے سی رکھے ہیں
ہمیں خبر ہے وہ عین راحت
نصیب ہو بھی اگر تو اپنا
سدا سے ہر درد لا دوا ہے
ہمارے زخموں کو
کب جراحت کا حوصلہ ہے
اویس علی
No comments:
Post a Comment