التجا
مدینے والے آقاﷺ
آپﷺ کے قدموں میں دو عالم کی کنجی ہے
مِرا ایمان ہے
دنیا کی ساری روشنی بس آپﷺ کے
کاکل کی اک ادنٰی جھلک سے فیض پاتی ہے
ہمارے بخت کی ساری بلندی
آپﷺ کے دامن سے جڑنے کی بدولت ہے
زمیں کے ماتھے پہ بس ایک ہی جھومر ہے خضریٰ کا
یہ وہ اعزاز ہے جس کی وجہ سے
یہ زمیں ساری زمینوں سے مکرم ہے مقدم ہے
مِرے آقاﷺ
خدا نے کہکشائیں آپﷺ کے قدموں سے
اٹھتی دھول کی چٹکی کی برکت سے بنائی ہیں
یہاں گر آپﷺ نہ ہوتے تو
بادل، بارشیں، موسم ، ہوا، خوشبو نہیں ہوتے
یہاں پر زندگی کا کوئی بھی امکاں نہیں ہوتا
اے شاہِ انبیاءﷺ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والے
فقط اپنی دعا سے ڈوبتے سورج کو واپس موڑنے والے
مِرے ٹوٹے ہوئے دل کو بھی ویسے جوڑ دیجئے
جس طرح سے چاند جوڑا تھا
کوئی بھی آپﷺ کے در سے کبھی خالی نہیں لوٹا
سو میں اپنے تصور میں مدینے کی گلی میں
ہاتھ میں کشکول لے کے پھر رہا ہوں
میرا کاسہ بھریں آقاﷺ
مری بے نور آنکھوں کو
رخِ انورؐ کو بوسہ دینے کی خیرات دیں آقاﷺ
اویس علی
No comments:
Post a Comment