ہم کون ہیں؟
ہم کسی کی حسرت نہیں
کہ پوری نہ ہونے پر اس کا جیون
مکمل ہو کر بھی ادھورا رہے
ہم وہ خواب ہیں
جو ٹوٹنے پر
کرچیوں سمیت کوڑا دان کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں
اور ہماری جگہ کوئی نیا خواب لے لیتا ہے
ہم پھول نہیں
جو سیج پر نہ سہی
کسی قبر پر ڈالنے کے کام آ جائیں
ہم وہ کانٹے ہیں
جن کی آغوش میں پھول پلتا ہے
لیکن ہمیں کبھی نفرت کی نگاہ بھی نصیب نہیں ہوئی
ہم چراغ نہیں
جو تھوڑی سی لو پیدا کر کے
کچھ دیر کے لیے اندھیرے کے دانت کٹھے کر سکیں
ہم اس موم بتی کی مانند ہیں
جسے برقی قمقموں کی موجودگی میں
ڈنر ٹیبل پر سجایا جاتا ہے
اور ہمارے طرفین بیٹھے افراد
ہمیں جلتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں
ہم وہ شاعر نہیں
جو چند نظمیں کبوتر کے پاؤں میں باندھ کر
محل میں موجود
کسی رانی کے دل میں نقب لگا سکیں
ہم پرانے زمانے کے وہ برہمن ہیں
جو موروثی کتابوں کے رٹے لگا کر
تجھ جدیدالعہد بدن پر حکومت کی خواہش میں مارے گئے
اویس علی
No comments:
Post a Comment