مت پوچھو مجھ سے نام مِرا
میں بِن موسم کی پروائی
میں دریاؤں کی گہرائی
میں ہوں پربت کی اونچائی
میں قوسِ قزح کی رعنائی
میں نخلستانِ صحرائی
پابندی سے کیا کام مِرا
مت پوچھو مجھ سے نام مِرا
میں عقل و عمل میں دانائی
میں عشق، جنوں، میں سودائی
میں شہرت، عزت، رسوائی
میں خود محفل، میں تنہائی
ہے دنیا مِری الہام مِرا
مت پوچھو مجھ سے نام مِرا
میں خوابیدہ سی خوشبو ہوں
میں اک آسیب ہوں جادو ہوں
میں شعلہ ہوں، میں جگنو ہوں
میں دشت و دمن کا آہو ہوں
میں ہر جا ہوں میں ہر سو ہوں
سہہ پائے نہ کوئی دام مِرا
مت پوچھو مجھ سے نام مِرا
حیرت کی اوج کمال ہوں میں
ان دیکھی سنی تمثال ہوں میں
میں راحت، حزن و ملال ہوں میں
لا حاصل ایک خیال ہوں میں
اب بھی ہے تجھے ابہام مِرا
مت پوچھو مجھ سے نام مِرا
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment