Thursday, 18 March 2021

وہ میرے لمس مری دسترس سےباہر تھا

وہ میرے لمس مری دسترس سےباہر تھا

بڑا قریب تھا لیکن ہوس سے باہر تھا

وہ منجمد تھا کسی آنکھ کے اشارے پر

وہ بس کی سیٹ پہ بیٹھا بھی بس سے باہر تھا

سکڑ گیا کہ تسلسل سے گریہ زاری کی

میں پھل تھا ایسا کہ اپنے ہی رس سے باہر تھا

مجھے لگا کہ مکمل ہی مر چکا ہوں میں

قفس میں آدھا تو آدھا قفس سے باہر تھا

پھر اس کے بعد سمندر کے ہاتھ بیعت کی

کہ تیرا دست مِری دسترس سے باہر تھا

اب اس کی لاش پہ روتے کہ جانچتے چہرہ

وہ مر کے لوٹا جو سولہ برس سے باہر تھا


احمد آشنا

No comments:

Post a Comment