وہ میرے لمس مری دسترس سےباہر تھا
بڑا قریب تھا لیکن ہوس سے باہر تھا
وہ منجمد تھا کسی آنکھ کے اشارے پر
وہ بس کی سیٹ پہ بیٹھا بھی بس سے باہر تھا
سکڑ گیا کہ تسلسل سے گریہ زاری کی
میں پھل تھا ایسا کہ اپنے ہی رس سے باہر تھا
مجھے لگا کہ مکمل ہی مر چکا ہوں میں
قفس میں آدھا تو آدھا قفس سے باہر تھا
پھر اس کے بعد سمندر کے ہاتھ بیعت کی
کہ تیرا دست مِری دسترس سے باہر تھا
اب اس کی لاش پہ روتے کہ جانچتے چہرہ
وہ مر کے لوٹا جو سولہ برس سے باہر تھا
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment