آنکھوں میں ستاروں کا دھواں چھوڑ گیا ہے
تُو خواب کی دنیا کو کہاں چھوڑ گیا ہے؟
کردار بچا ہے نہ کہانی میں کوئی رَس
تُو میرے فسانے کو وہاں چھوڑ گیا ہے
اک آس نے رکھا تھا مِرا ذہن فروزاں
اک درد مِرے دل پہ نشاں چھوڑ گیا ہے
جس کے لب و عارض میں رہا کرتی تھی سردی
وہ شخص جہاں بھر کو تپاں چھوڑ گیا ہے
اک ثانیہ آگے نہیں سرکا یہ وہاں سے
تُو میرے زمانے کا جہاں چھوڑ گیا ہے
احمد حماد
No comments:
Post a Comment