Thursday, 18 March 2021

لاکھ پردوں میں گو نہاں ہم تھے

 لاکھ پردوں میں گو نہاں ہم تھے

پھر بھی ہر چیز سے عیاں ہم تھے

ایک عالم کے ترجماں ہم تھے

ان کے آگے ہی بے زباں ہم تھے

ہم ہی ہم تھے وہاں جہاں ہم تھے

آپ آئے تو پھر کہاں ہم تھے

ہر رگ و پے میں برق رقصاں تھی

ہائے وہ وقت جب جواں ہم تھے

آج تو خیر سے ہیں عرش مقام

کل زمیں پر بھی آسماں ہم تھے

غم کے ماروں کو ناز تھا ہم پر

جذبۂ غم کے ترجماں ہم تھے

ہر قدم پہ تھی سامنے منزل

سوئے منزل رواں دواں ہم تھے

زندگی بھر جو لب پہ آ نہ سکی

درد و غم کی وہ داستاں ہم تھے

دوستوں کا تو ذکر کیا آتش

دشمنوں پر بھی مہرباں ہم تھے


آتش بہاولپوری

دیوی دیال

No comments:

Post a Comment