Thursday, 18 March 2021

مجھ میں اکثر چراغ جلتے ہیں

 مجھ میں اکثر چراغ جلتے ہیں

اور شب بھر چراغ جلتے ہیں

سب سے پہلا جلایا تھا میں نے

اب تو گھر گھر چراغ جلتے ہیں

کیوں مِرے دل میں تیرگی ہو گی

جب بہتّر چراغ جلتے ہیں

ہم نے پانی سے بھی جلائے ہیں

بندہ پرور چراغ جلتے ہیں

چمنیوں سے دھواں نکلتا ہے

مِل میں اکثر چراغ جلتے ہیں

میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو

میرے اندر چراغ جلتے ہیں

پوچھتی ہے یہ تیرگی اکثر

مجھ سے کیونکر چراغ جلتے ہیں

سانس لینا زرا سنبھل کے تم

ان کے در پر چراغ جلتے ہیں

قیس کہتا ہے اِک شرر مجھ سے

تجھ سے بہتر چراغ جلتے ہیں


ندیم قیس

No comments:

Post a Comment