مجھ میں اکثر چراغ جلتے ہیں
اور شب بھر چراغ جلتے ہیں
سب سے پہلا جلایا تھا میں نے
اب تو گھر گھر چراغ جلتے ہیں
کیوں مِرے دل میں تیرگی ہو گی
جب بہتّر چراغ جلتے ہیں
ہم نے پانی سے بھی جلائے ہیں
بندہ پرور چراغ جلتے ہیں
چمنیوں سے دھواں نکلتا ہے
مِل میں اکثر چراغ جلتے ہیں
میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
میرے اندر چراغ جلتے ہیں
پوچھتی ہے یہ تیرگی اکثر
مجھ سے کیونکر چراغ جلتے ہیں
سانس لینا زرا سنبھل کے تم
ان کے در پر چراغ جلتے ہیں
قیس کہتا ہے اِک شرر مجھ سے
تجھ سے بہتر چراغ جلتے ہیں
ندیم قیس
No comments:
Post a Comment