نیند مشکل سے فقط ایک گھڑی رہتی ہے
پھر مِری آنکھ میں خوابوں کی لڑی رہتی ہے
دل وہ صحرا ہے جہاں پھول کھِلا کرتے تھے
آنکھ وہ جھیل، جہاں اوس پڑی رہتی ہے
یاد کرنے کا کوئی وقت مقرر ہے بھلا؟
یہ مصیبت تو مِرے سر پہ کھڑی رہتی ہے
تجھ سے ویسے تو کوئی کام نہیں ہے مجھ کو
تجھ سے ملنے کی مگر، چاہ بڑی رہتی ہے
میں بہت زور سے ہنستا ہوں، اداسی کے سَمے
آہ چپکے سے کہیں دل میں گڑی رہتی ہے
وہ بہت دن سے مِرے پاس نہیں ہے راشد
ایک مدت سے مِری چائے کڑی رہتی ہے
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment