Friday, 19 March 2021

تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

 تُو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

یہ کچھ الزام ہیں میرے، صفائی کیوں نہیں دیتا

مِرے ہنستے ہوئے لہجے سے دھوکا کھا رہے ہو تم

مِرا اترا ہوا چہرہ دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

نظر انداز کر رکھا ہے دنیا نے تجھے کب سے

کسی دن اپنے ہونے کی دُہائی کیوں نہیں دیتا

میں تجھ کو دیکھنے سے کس لیے محروم رہتا ہوں

عطا کرتا ہے جب نظریں رسائی کیوں نہیں دیتا

کئی لمحے چُرا کر رکھ لیے تو الگ مجھ سے

تُو مجھ کو زندگی بھر کی کمائی کیوں نہیں دیتا

خود اپنے آپ کو ہی گھیر کر بیٹھا ہے تُو کب سے

اب اپنے آپ سے خود کو رہائی کیوں نہیں دیتا

میں تجھ کو جیت جانے کی مبارک باد دیتا ہوں

تُو مجھ کو ہار جانے کی بدھائی کیوں نہیں دیتا


منیش شکلا

No comments:

Post a Comment