عشق صحرا میں وہ آداب سکھا دیتا ہے
راستہ آپ ہی منزل کا پتا دیتا ہے
ساتویں سمت کہیں آپ کے ہونے کا گماں
دشتِ امکاں میں نئے پھول کِھلا دیتا ہے
خالی کاسے کی طرف دیکھ کے ہنسنے والو
یہ فقیر آپ کو جینے کی دعا دیتا ہے
رات لے آتی ہے تفصیل کئی خوابوں کی
دن نکلتا ہے تو ہر خواب بھلا دیتا ہے
ہم طلبگارِ جنوں وجد میں آئے تو کُھلا
پہلے معلوم کہاں تھا،۔ کہ خدا دیتا ہے
ایک چہرہ ہے مِری آنکھ کے محور میں کہیں
جو مِرے خواب کو تصویر بنا دیتا ہے
میں نے ماں باپ کو آنکھوں پہ بٹھایا راشد
رب مِری مشکلیں آسان بنا دیتا ہے
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment