Friday, 22 April 2022

کبھی سسکی کبھی آوازہ سفر جاری ہے

 کبھی سسکی کبھی آوازہ سفر جاری ہے 

کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے 

تھک کے بیٹھیں تو کہیں ہاتھ وہ چھڑوا ہی نہ لے 

بس اسی خوف میں ہی اندھا سفر جاری ہے

یہ جو آگے کی طرف پاؤں نہیں اٹھتے مِرے 

اپنے اندر کی طرف میرا سفر جاری ہے 

کتنی ہی منزلیں پا کر بھی تسلی نہ ہوئی 

میرے بل بوتے پہ قسمت کا سفر جاری ہے 

کچھ مہینے تو ہمیں جاگ کے ہی چلنا پڑا

کچھ مہینوں سے یہ خوابیدہ سفر جاری ہے 

جس کو بھی چلتا ہوا دیکھیں سو چل پڑتے ہیں  

کیوں وقار! اپنا یہ ان دیکھا سفر جاری ہے 


وقار خان 

No comments:

Post a Comment