Friday, 22 April 2022

ہونا غروب چاہے ہے سورج جو ڈھل گیا

 ہونا غروب چاہے ہے سورج جو ڈھل گیا

کر دیں گے ہم بھی کوچ  کل جو کل تھا کل گیا

ساقی کی چشم ناز کی جادو نگاہیاں 

مستی میں میرے ہاتھ سے ساغر پھسل گیا

وہ رشک گلستان کیا جلوہ نما ہوا

چشم زدن میں شہر کا  منظر بدل گیا

دیکھے اسے وہ طاقت دیدار ہو جسے

اپنا تو اک نظر میں کلیجہ نکل گیا

حالانکہ اس نے ٹوکا تھا مجھ کو بہ رسم و راہ

اس کے حضور میں بھی مگر سر کے بل گیا

کرتا تھا ذکر روز جو حوران خلد کا

دیکھی زمیں کی حور تو زاہد اچھل گیا 

اس عہد تیز گام میں دیتا ہے کون ساتھ

کر شکر ساز ناتواں اتنا تو چل گیا


ساز دہلوی

No comments:

Post a Comment