اس طرح زخمی یہ پندار نہیں تھا پہلے
آج جو ہے، میرا معیار نہیں تھا پہلے
ہم ہی کچھ ہو گئے مجبور سے دل کے ہاتھوں
زیست میں ورنہ تو آزار نہیں تھا پہلے
آ گیا درمیاں کوئی جو بدل ڈالی نظر
ورنہ ہم سے کبھی انکار نہیں تھا پہلے
زخم دیتے ہو تو مرہم بھی لگا دیتے ہو
آپ سا کوئی بھی غمخوار نہیں تھا پہلے
یونہی ان بن سے گزرتا ہوا رشتہ اپنا
آنکھ میں چُبھتا ہوا خار نہیں تھا پہلے
ہم تو خود ہی کو منا لیتے تھے روتے روتے
کوئی کاندھا ہمیں درکار نہیں تھا پہلے
ضبط پر ناز تو اپنے تھا بہت ہی ہم کو
کرب کا اس طرح اظہار نہیں تھا پہلے
ایسا کیا ہو گیا آخر کہ جبیں آنکھوں میں
آنسوؤں کا تو یوں انبار نہیں تھا پہلے
مہ جبین عثمان
No comments:
Post a Comment