Friday, 5 March 2021

دکھتا ہے صاف صاف کہ کب تک ہے روشنی

 دکھتا ہے صاف صاف کہ کب تک ہے روشنی

جب تک وہ میرے ساتھ ہے تب تک ہے روشنی

اِس کہکشاں سے دور بھی ہونی ہے کہکشاں

اِس آسماں سے دور بھی سب تک ہے روشنی

روشن نہیں ہُوا میں کبھی بھیک مانگ کر

تب تک مِرا وجود ہے، جب تک ہے روشنی

میں تیرگی کے دور کا پہلا چراغ ہوں

میں جانتا ہوں آج کی شب تک ہے روشنی

دل پر پڑی نگاہ تو یہ راز کھل گیا

یعنی مِرے وجود سے رب تک ہے روشنی

راشد ہوا سے میں نے کبھی ہارنا نہیں

تب تک دِیے بناؤں گا جب تک ہے روشنی


راشد علی مرکھیانی

No comments:

Post a Comment