بتا دیا تجھے باقاعدہ نہیں سمجھے
کسی خیال کو چہرہ نما نہیں سمجھے
دوام اس لیے ملتا نہیں محبت کو
کہ اس ہنر کو کبھی بیوفا نہیں سمجھے
میں روشنی کے بچاؤ پہ بات چاہتی تھی
مگر چراغ مِرا مدعا نہیں سمجھے
جہاں پہ دل نے کہا بس قدم وہیں رکھا
کہ راستے کو بھی ہم راستہ نہیں سمجھے
قبولیت سے ہیں محروم اس لیے بھی کہ ہم
بلند ہاتھوں کو دستِ دعا نہیں سمجھے
کسی کسی نے ہی میری طلب پہ غور کیا
تمام پُھول مِرا مسئلہ نہیں سمجھے
اب اس سے کوئی سروکار ہی نہیں کہ مجھے
سمجھ گئے مِرے احباب یا نہیں سمجھے
گل حوریہ
No comments:
Post a Comment