Friday, 5 March 2021

بتا دیا تجھے باقاعدہ نہیں سمجھے

 بتا دیا تجھے باقاعدہ نہیں سمجھے

کسی خیال کو چہرہ نما نہیں سمجھے

دوام اس لیے ملتا نہیں محبت کو

کہ اس ہنر کو کبھی بیوفا نہیں سمجھے

میں روشنی کے بچاؤ پہ بات چاہتی تھی

مگر چراغ مِرا مدعا نہیں سمجھے

جہاں پہ دل نے کہا بس قدم وہیں رکھا

کہ راستے کو بھی ہم راستہ نہیں سمجھے

قبولیت سے ہیں محروم اس لیے بھی کہ ہم

بلند ہاتھوں کو دستِ دعا نہیں سمجھے

کسی کسی نے ہی میری طلب پہ غور کیا

تمام پُھول مِرا مسئلہ نہیں سمجھے

اب اس سے کوئی سروکار ہی نہیں کہ مجھے

سمجھ گئے مِرے احباب یا نہیں سمجھے


گل حوریہ

No comments:

Post a Comment