دوستوں کو بہم نہیں ہوتا
آدمی محترم نہیں ہوتا
میرے پندار کا تقاضا ہے
سرِ تسلیم خم نہیں ہوتا
موت نے بارہا تسلی دی
خوف جینے کا کم نہیں ہوتا
سرحدیں ہیں زمین کی قسمت
آسماں منقسم نہیں ہوتا
سب کو جینے کا غم تو ہوتا ہے
سب کو مرنے کا غم نہیں ہوتا
اس پہ آنکھیں نکالتے ہیں سبھی
جس کے بازو میں دم نہیں ہوتا
بے دھڑک آئیے گلے ملیے
سب کی جیکٹ میں بم نہیں ہوتا
آشنا دھوپ سے نہیں جو امر
ایسی مٹی میں نم نہیں ہوتا
امر روحانی
No comments:
Post a Comment