ہم پر زیست کے جتنے بھی احسان بنے
ان کے شہر میں رہنے کے دوران بنے
زلف، جبیں، رخسار نہیں بس آنکھوں پر
لکھنے بیٹھوں تو پورا دیوان بنے
پہلے کلیاں چن کر شہد میں گوندھوں گا
پھر کوشش ہو گی تجھ سی مسکان بنے
ان کو غافل جان کے دیکھا جی بھر کے
اور وہ دیدہ دانستہ انجان بنے
کچھ تو شامل زاد میں اپنی یاد کرو
کچھ تو ہم پر ہجر کی رہ آسان بنے
عزت، دولت، شہرت بعد کی باتیں ہیں
پہلے ہر ابنِ آدم انسان بنے
کیسے کیسے جسم ہوئے پیوندِ خاک
کیسے کیسے شہر قمر میدان بنے
قمر آسی
No comments:
Post a Comment