سانپ کے جیسے نہ بچھو کی طرح ہوتے ہیں
یار تو یار ہیں، بازو کی طرح ہوتے ہیں
سرد لہجے کی تپش اور ستم ڈھاتی ہے
اس کے الفاظ بھی چاقو کی طرح ہوتے ہیں
کیا بگاڑیں گے اندھیروں کا یہ ننھے ذرے
یہ ستارے بھی تو جگنو کی طرح ہوتے ہیں
ڈوب کر پار لگاتے ہیں تِری کشتی کو
یہ جو ماں باپ ہیں، چپّو کی طرح ہوتے ہیں
تول کر میں تِری اوقات بتا سکتا ہوں
مجھ سے درویش ترازو کی طرح ہوتے ہیں
مجھ کو تنہائی کے لمحات سے گِھن آتی ہے
کچھ خیالات ہی بد بُو کی طرح ہوتے ہیں
سنسنی پھیلتی جاتی ہے چھپانے سے میاں
عشق کے راز بھی خوشبو کی طرح ہوتے ہیں
میں نے صحرا کی نظر سے ہی تو دیکھا ہے فہد
یہ سمندر بھی تو چُلو کی طرح ہوتے ہیں
سردار فہد
No comments:
Post a Comment