Thursday, 4 March 2021

عصر عاشور سے اس عرصہ شب تک اب تک

 عصرِ عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک

استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک، اب تک

در سے دوری کا سبب کچھ بھی ہو پر شہر کے بیچ

لوگ پہنچے ہی نہیں رحمتِ رب تک اب تک

اہلِ ایماں پہ ہوئی جن کی محبت واجب

ہم نہیں سیکھ سکے ان کا ادب تک اب تک

چودہ سو سال میں دعویٰ تو بہت سوں نے کیا

کوئی پہنچا نہیں اک مردِ عجب تک اب تک

ہم نے ان کو بھی سند ابنِ سند مان لیا

جن کا معلوم نہیں نام و نسب تک اب تک

کوئی لبیک کہے یا نہ کہے،۔ پر احمد

استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک اب تک


احمد فرید 

No comments:

Post a Comment