بتا کے، روح بدن سے نکال دی جائے
چھُڑا کے روح بدن سے نکال دی جائے
جو زیست ہم نے گزاری ہے، یہ تو بنتا ہے
ہنسا کے روح بدن سے نکال دی جائے
عجب نہیں کہ مجھے راکھ کر دیا تو کہا
اٹھا کے روح بدن سے نکال دی جائے
نجف میں یا کہ مدینہ میں ایک بار مجھے
بُلا کے روح بدن سے نکال دی جائے
یہ حق نہیں ہے کہ عاشق مزاج لوگوں کو
ستا کے روح بدن سے نکال دی جائے
ہم ایسے میر کی غزلوں پہ جان دیتے ہیں
سو گا کے روح بدن سے نکال دی جائے
کوئی گلاب سا چہرہ ہمیں بھی ساحر جی
دِکھا کے روح بدن سے نکال دی جائے
سبطین ساحر
No comments:
Post a Comment