Thursday, 4 March 2021

اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو

 اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو

دور تلک بس کچھ نہ ہو حیرانی ہو

کچھ برباد زمینیں ہوں آبادی میں

کچھ آباد مکانوں میں ویرانی ہو

ویرانی کی گرد چھٹے اور تُو آئے

تُو آئے اور ایک نئی ویرانی ہو

خاموشی آواز کی صورت بول پڑے

دریاؤں نے پیاس کی چادر تانی ہو

اس کی آنکھوں میں ایسی سیرابی ہے

گھڑے کے اندر جیسے ٹھنڈا پانی ہو

درد نہ ہو اور زخم نمو پاتا جائے

نیند نہ ہو اور خوابوں کی ارزانی ہو

ہوس پوره کے باشندے اے پاگل دل

وحشت کر جس وحشت میں نادانی ہو


حماد نیازی

No comments:

Post a Comment