دیکھ یہ کیا کیا اُداسی میں
کھو دیا حوصلہ اداسی میں
آنکھ تجھ سے ہٹی تو سب منظر
کھو گئے با خدا اداسی میں
جا کے دریا ملا سمندر سے
دشت پھرتا رہا اداسی میں
کیا اذیت ہے تُو نہ سمجھے گا
کھوکھلا قہقہہ اداسی میں
گرد ٹھہری تھی آئینے میں کہیں
زرد چہرا ہوا اداسی میں
اور کرتا بھی کیا بھلا راشد
شعر پڑھتا رہا اداسی میں
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment