Wednesday, 10 March 2021

دیکھیں تو ہیں نظارے تہ آب بہت سے

 دیکھیں تو ہیں نظارے تہِ آب بہت سے

مہتاب کے پیچھے بھی ہیں مہتاب بہت سے

ہر قطرۂ دریا میں رواں ہیں کئی دریا

نظاروں میں نظارے ہیں بے تاب بہت سے

ہیں محو کسی منظرِ ہستی میں دل و چشم

اور دیکھنے ہیں ہم کو ابھی خواب بہت سے

کچھ چاک گریباں ہی پہ موقوف نہیں ہے

باقی ہیں جنوں کے ابھی آداب بہت سے

گریہ ہی نہیں اک در و دیوار کا دشمن

اس خانہ خرابی کے ہیں اسباب بہت سے

گر بند ہوا ایک درِ زیست تو کیا ہے

کھلنے ہیں ابھی مجھ پہ نئے باب بہت سے


ضیا الحسن

No comments:

Post a Comment