دریا ہوں، سمندر ہوں، کنارہ ہی نہیں میں
جیسا ہوں تِرے سامنے ویسا ہی نہیں میں
دنیا ہے مِری آنکھ میں اک خواب کی صورت
اور خواب بھی ایسا ہے کہ دِکھتا ہی نہیں میں
گر تُو بھی مِرا بن نہ سکا ہے تو عجب کیا
وہ حشر کا عالم ہے کہ اپنا ہی نہیں میں
یہ کیسی اذیت ہے اداسی نہیں جاتی
یہ کیسا بھنور ہے کہ ابھرتا ہی نہیں میں
پل بھر کو سمیٹا تھا تِرے عشق نے مجھ کو
یوں ٹوٹ کے بکھرا کہ کہیں تھا ہی نہیں میں
تصویر کے دو رخ ہیں ذرا دھیان سے دیکھو
میں آپ مداری ہوں، تماشا ہی نہیں میں
اس آئینہ خانے میں یہی عیب تھا راشد
موجود جہاں تو تھا وہاں تھا ہی نہیں میں
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment