Wednesday, 3 March 2021

جستجو چھوڑ کے تقدیر کے پیچھے بھاگے

 جستجو چھوڑ کے تقدیر کے پیچھے بھاگے 

کتنے نادان تھے ہر پیر کے پیچھے بھاگے 

آپ گر نیند سے جاگے تھے صدا دے دیتے 

ہم یونہی خواب میں تعبیر کے پیچھے بھاگے 

ساتھ چھوٹا ہے مگر آس نہیں ٹوٹی ہے 

اس نے چھوڑا ہے تو تدبیر کے پیچھے بھاگے

زندگی جانبِ زندان کہاں جاتی تھی

ہم جنوں خیز تھے، زنجیر کے پیچھے بھاگے

میں نے اک نقش بنایا جو تِرا، تب دیکھا

رنگ جتنے بھی تھے تصویر کے پیچھے بھاگے 

جس کو دنیا کا بڑا غم ہو، اسے کہہ دینا

ایک دن تو غمِ شبیر کے پیچھے بھاگے

اس کو منزل پہ پہنچنے کی طلب ہے راشد

اس کو بولو کہ نہ رہگیر کے پیچھے بھاگے


راشد علی مرکھیانی

No comments:

Post a Comment