جستجو چھوڑ کے تقدیر کے پیچھے بھاگے
کتنے نادان تھے ہر پیر کے پیچھے بھاگے
آپ گر نیند سے جاگے تھے صدا دے دیتے
ہم یونہی خواب میں تعبیر کے پیچھے بھاگے
ساتھ چھوٹا ہے مگر آس نہیں ٹوٹی ہے
اس نے چھوڑا ہے تو تدبیر کے پیچھے بھاگے
زندگی جانبِ زندان کہاں جاتی تھی
ہم جنوں خیز تھے، زنجیر کے پیچھے بھاگے
میں نے اک نقش بنایا جو تِرا، تب دیکھا
رنگ جتنے بھی تھے تصویر کے پیچھے بھاگے
جس کو دنیا کا بڑا غم ہو، اسے کہہ دینا
ایک دن تو غمِ شبیر کے پیچھے بھاگے
اس کو منزل پہ پہنچنے کی طلب ہے راشد
اس کو بولو کہ نہ رہگیر کے پیچھے بھاگے
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment