Tuesday, 8 February 2022

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

 خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

مختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیا

پھول سے موسم کی برساتیں ہواؤں کی مہک

اب کے موسم کی وہ سب شامیں سہانی لے گیا

دے گیا مجھ کو سرابوں کا سکوت مستقل

میرے اشکوں سے وہ دریا کی روانی لے گیا

خاک اب اڑنے لگی میدان صحرا ہو گئے

ریت کا طوفان دریاؤں سے پانی لے گیا

کون پہچانے گا زریں مجھ کو اتنی بھیڑ میں

میرے چہرے سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا


عفت زریں

No comments:

Post a Comment