Tuesday, 8 February 2022

جچا نہ شہر تو پھر گاؤں میں چلے آئے

 جچا نہ شہر تو پھر گاؤں میں چلے آئے

انہیں پرانے مسیحاؤں میں چلے آئے

ہم اس کے واسطے تتلی پکڑنے نکلے تھے

نہ جانے کس طرح صحراؤں میں چلے آئے

زیادتی بھی تِری تھی یہ دیکھ پھر بھی ہم

تجھے منانے تِرے پاؤں میں چلے آئے

جو برف تھی وہ چٹانوں کا روپ دھار گئی

جو کوہسار تھے، دریاؤں میں چلے آئے

جڑوں سے کاٹتے پھرتے تھے ایک دوسرے کو

اور ایک دوسرے کی چھاؤں میں چلے آئے

ہم اپنے جیسوں میں کتنے سکوں سے زندہ تھے

ہمارا جرم کہ داناؤں میں چلے آئے


احمد سلیم رفی

No comments:

Post a Comment