جچا نہ شہر تو پھر گاؤں میں چلے آئے
انہیں پرانے مسیحاؤں میں چلے آئے
ہم اس کے واسطے تتلی پکڑنے نکلے تھے
نہ جانے کس طرح صحراؤں میں چلے آئے
زیادتی بھی تِری تھی یہ دیکھ پھر بھی ہم
تجھے منانے تِرے پاؤں میں چلے آئے
جو برف تھی وہ چٹانوں کا روپ دھار گئی
جو کوہسار تھے، دریاؤں میں چلے آئے
جڑوں سے کاٹتے پھرتے تھے ایک دوسرے کو
اور ایک دوسرے کی چھاؤں میں چلے آئے
ہم اپنے جیسوں میں کتنے سکوں سے زندہ تھے
ہمارا جرم کہ داناؤں میں چلے آئے
احمد سلیم رفی
No comments:
Post a Comment