Tuesday, 8 February 2022

توڑ کر شیشہ وہ ہنستا ہے تو دل روتا ہے

 توڑ کر شیشہ وہ ہنستا ہے تو دل روتا ہے

ایک پروانہ بھی جلتا ہے تو دل روتا ہے

چاند کے ساتھ ہیں کتنے ہی فسانے دل کے

چاند بادل سے لپٹتا ہے تو دل روتا ہے

صبح سورج جو نکلتا ہے بشارت لے کر

جب سرِ شام وہ ڈھلتا ہے تو دل روتا ہے

ابر جو مجھ کو ملا میری عرق ریزی سے

وہ کہیں اور برستا ہے تو دل روتا ہے

ایک سے ایک بڑے ظرف ہیں میخانے میں

جام کم ظرف کو ملتا ہے تو دل روتا ہے

انکساری سے جو ملتا ہوں مِری عادت ہے

وہ خدا خود کو سمجھتا ہے تو دل روتا ہے


راشد عالم

No comments:

Post a Comment