توڑ کر شیشہ وہ ہنستا ہے تو دل روتا ہے
ایک پروانہ بھی جلتا ہے تو دل روتا ہے
چاند کے ساتھ ہیں کتنے ہی فسانے دل کے
چاند بادل سے لپٹتا ہے تو دل روتا ہے
صبح سورج جو نکلتا ہے بشارت لے کر
جب سرِ شام وہ ڈھلتا ہے تو دل روتا ہے
ابر جو مجھ کو ملا میری عرق ریزی سے
وہ کہیں اور برستا ہے تو دل روتا ہے
ایک سے ایک بڑے ظرف ہیں میخانے میں
جام کم ظرف کو ملتا ہے تو دل روتا ہے
انکساری سے جو ملتا ہوں مِری عادت ہے
وہ خدا خود کو سمجھتا ہے تو دل روتا ہے
راشد عالم
No comments:
Post a Comment