Tuesday, 8 February 2022

مثال عصر ہوں یکتائے روزگار ہوں میں

 مثالِ عصر ہوں یکتائے روزگار ہوں میں

خدا نے جس کو تراشا وہ شاہکار ہوں میں

دل اور ذہن کا باہم قتال ہر لمحہ

درونِ جسم یوں میدانِ کارزار ہوں میں

بدلتی فکر بدلتی مِری طبیعت یہ

اس ایک ذات میں دیکھو تو بے شمار ہوں میں

عروج آیا تو اک دن زوال آنا ہے

حضور کب سے یہی کہتا بار بار ہوں میں

اب اس قدر ہوا انسانیت کا خوں ارزاں

امیرِ شہر سن اب تجھ پہ شرمسار ہوں میں

ہزارہا مہ و انجم ہیں میرے سینے میں

دلِ فگار سمجھتا ہے ریگزار ہوں میں

ذرا سی لغزشِ دل پر عتاب کیوں مولا

ازل سے تیرے اوامر کا پاسدار ہوں میں

کھلا جو عقدۂ عہدِ الست، تو جانا

لبِ حیات پہ کاسہ کوئی ادھار ہوں میں

یہ زندگی تو مسلسل طواف لگتی ہے

حصار میں ہوں وصی یا کہ خود حصار ہوں میں


وصی بستوی

No comments:

Post a Comment