Thursday, 7 January 2021

اپنے وقت سے کٹی ہوئی ایک ساعت

 اپنے وقت سے کٹی ہوئی ایک ساعت


تم بھی، تم جو میرے طبیب بنے پھرتے تھے

تم بھی

وہ بھی، وہ جو میرے حبیب بنے پھرتے تھے

وہ بھی

سارے آؤ

دیکھو

تارکول کی چادر پر یہ دھبہ دھبہ ریشہ ریشہ بکھری ہوئی جو چیز پڑی ہے

میں ہوں

میں تھی

ایک گھڑی پہلے جو اس چوٹی پر اپنے آپ میں سمٹی ہوئی اک چیز کھڑی تھی

میں تھی

میں نے سوچا

یہ جو مِرے طبیب ہیں اور جو مِرے حبیب ہیں انہیں دکھاؤں

جو اس نبض پہ رکھی انگلیوں اور اس آنکھ میں جھانکتی آنکھوں سے اوجھل ہے

اک لمحہ تھا

سو صدیاں تھیں

میں نے دیکھا

میں ہی میں ہوں

میں ہی میں تھی

مجھ سے میری جنگ تھی جس میں

میں ہی جیتی

میں ہی ہاری

تم جو مِرے طبیب بنے پھرتے تھے

اور جو مِرے حبیب بنے پھرتے تھے

کہیں نہیں تھے


جاوید انور

No comments:

Post a Comment